Ramzan

احساس ایک ایسی کیفیت کا   نام  ہے جس کے  کوئی دام  نہیں ہیں  ۔کہیں ارب  پتی اس جذبے سے عاری ہیں تو کہیں  غریب کا   دامن اس سے لبریز ہے۔ یہ وہی جذبہ ہے جس کی وجہ  سے  سرور کائنات حضورﷺ  دنیا  سے پردہ پوشی کے وقت امتی امتی کی صدا بلند کرتے ہیں تو کہیں کوئی تپتے انگاروں پہ  حق کا نعارہ بلند کرتا ہے۔یہی وہ کیفیت ہے جو ماں کی ممتا کو جنم دیتی ہے تو کہیں صفاومروہ کے چکر فرض عین بنا دیتی ہے۔ یوں قصہ مختصر یہ کیفیت انسان کو یہ کہلوا دیتی ہے کہ رشتے تو احساس کے ہوتے ہیں۔
رمضان کے جہاں اور بہت سے طبعی اور اخروی فوائد ہیں وہیں اگر اس کے ظاہری  فلسفے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو شاید ایک مقصد انسان کے اندر احساس کے جذبے کو بیدار کرنا بھی ہے۔جب انسان طلوع سحر سے غروب آفتاب تک ایک  خاص کیفیت سے گزرتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے  اچھائی اور برائی کا، غریبوں و  مفلسوں کی  بھوک پیاس کا، خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے شکر ادا کرنے کا۔ غرضیکہ رمضان ہر سال قدرت کی طرف سے احساس کی کیفیت کو شاید تروتازہ کرنے کے لیے ایک  تحفہ ہے۔تاکہ انسانی معاشرہ ایک بہترین  انداز سے چل پائے ہر  انسان دوسرے انسان کی درد تکلیف کو سمجھ پائے،غلطیوں کوتاہیوں کو معاف کر پائے۔ بس یوں سمجھ لی جیئے کہ احساس کے جذبے سے بھرپور معاشرہ ہی مثالی معاشرہ کہلانے کے لائق ہے۔
اگر آپ کے  دسترخوان  پر بیسیوں کھانے موجود ہیں اور آپ کا پڑوسی،محلےدار  یا پھر کوئی عزیز و رشتےدار فاقوں کا شکار ہے تو یقین جانیئے آپکے  اندر احساس نامی جذبہ مر چکا ہے۔ اگر آپ عید کے  ہر دن کے لئے الگ الگ ملبوسات تیار کروا رہے ہیں اور آپ کے اردگرد کوئی برسوں پرانے پھٹے کپڑے پہننے پر مجبور ہے تو یقین جانیئے آپ کی احساس نامی کیفیت کو زنگ لگ چکا ہے  اور اگر  ملک کا غریب و نادار طبقہ لاک ڈاؤن اور وباء کی سختیوں میں کسی ریلیف پیکیج  کی  آس و امید لگائے بیٹھا ہے اور ملک میں سیاسی وفاداروں کو ریلیف پیکیج سے نوازا جا رہا ہے تو بس اندازہ لگا لی جیئے کہ بطور قوم ہم بے حس ہو چکے ہیں۔
ابھی بھی رمضان کے بارہ یا تیرہ روز باقی ہیں آئیے ہم اللہ تعالی کے حضور گڑگڑا کر  دامنِ پھیلا کر ایک دعا مانگتے ہیں یا خدایا ہمیں احساس کی دولت سے نواز دے۔ رمضان کا مہینہ رحمتوں برکتوں والا ہے یقیناً اگر  ہم خلوص دل سے دعا مانگیں تو وہ غفور و رحیم ذات اس دولت سے ہمیں نواز دے گی۔ پھر ہمارے اردگرد کوئی دکھ بھری داستان نہیں ہو گی، عدل و انصاف ہو گا، خوشیاں اور سکون ہو گا۔ اللہ پاک ہمیں اس بابرکت ماہ کے طفیل  اس قیمتی جذبے سے سرشار کر دیں۔امین  
ٹائپنگ کی غلطیوں کے لئے پیشگی معذرت۔ 
تحریر۔ ثاقب کیانی

Comments

  1. Hadees-Nabi ha hazar masjid bananay say bahter ha Bhokay ko khana khelaw. Asal main Ramzan kay mahinay ka maqsad hi Islah-e Muslim ha. Allah pak hamayn Ramzanul Mubarak kay rozay maqsad ko samaj ker rakhnay ki tofiq ata Furmay Ameen. Anyway Written good well done.

    ReplyDelete

Post a Comment